Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
580 - 872
آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا شکم صبروقناعت کی ایک دنیا اور آپ کا سینہ معرفت الٰہی کے انوار کا سفینہ اور وحی الٰہی کا گنجینہ تھا۔ ؎
پائے اقدس
آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس پاؤں چوڑے پر گوشت، ایڑیاں کم گوشت والی، تلوا اونچا جو زمین میں نہ لگتا تھا دونوں پنڈلیاں قدرے پتلی اور صاف و شفاف، پاؤں کی نرمی اور نزاکت کا یہ عالم تھا کہ ان پر پانی ذرا بھی نہیں ٹھہرتا تھا۔ (1)            (شمائل ترمذی ص۲ومدارج النبوۃ وغیرہ)

آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم چلنے میں بہت ہی وقار و تواضع کے ساتھ قدم شریف کو زمین پر رکھتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ چلنے میں میں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے بڑھ کر تیز رفتار کسی کو نہیں دیکھا گویا زمین آپ کے لئے لپیٹی جاتی تھی۔ ہم لوگ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ دوڑا کرتے تھے اور تیز چلنے سے مشقت میں پڑ جاتے تھے مگر آپ نہایت ہی وقار و سکون کے ساتھ چلتے رہتے تھے مگر پھر بھی ہم سب لوگوں سے آپ آگے ہی رہتے تھے۔(2)(شمائل ترمذی ص۲ وغیرہ)
۔۔۔۔۔۔الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی خلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث: 

۷،ص۲۱ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی مشیۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث:۱۱۶،ص۸۶
                            کل جہاں ملک اور جو کی روٹی غذا

                            اُس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام
ساقِ اصل قدم شاخ نخل کرم		شمع راہ اصابت پہ لاکھوں سلام

کھائی قرآن نے خاکِ گزر کی قسم		اُس کف پاکی حرمت پہ لاکھوں سلام
Flag Counter