Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
579 - 872
دستِ مبارک لگا دیا تو میں نے اپنے گالوں پر آپ کے دستِ مبارک کی ٹھنڈک محسوس کی اور ایسی خوشبو آئی کہ گویا آپ نے اپنا ہاتھ کسی عطر فروش کی صندوقچی میں سے نکالا ہے۔ (1)(مسلم ج۲ ص۲۵۶ باب طیب ریحہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)

اس دست مبارک سے کیسے کیسے معجزات و تصرفات عالم ظہور میں آئے ان کا کچھ تذکرہ آپ معجزات کے بیان میں پڑھیں گے۔ ؎
ہاتھ  جس  سمت   اٹھا  غنی  کردیا		   موج بحر  سماحت پہ لاکھوں سلام

جس  کو بار  دو  عالم  کی  پروا  نہیں		   ایسے بازو کی قوت پہ لاکھوں سلام

کعبہ دین  و  ایماں  کے دونوں ستون		   ساعدین  رسالت پہ لاکھوں سلام

     جس کے ہر خط میں ہے موج نور کرم		           اُس کف بحر ہمت پہ لاکھوں سلام

نور  کے  چشمے  لہرائیں  دریا  بہیں		   انگلیوں کی کرامت پہ لاکھوں سلام
شکم و سینہ
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا شکم و سینہ اقدس دونوں ہموار اور برابر تھے۔ نہ سینہ شکم سے اونچا تھا نہ شکم سینہ سے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا سینہ چوڑا تھا اور سینہ کے اوپر کے حصہ سے ناف تک مقدس بالوں کی ایک پتلی سی لکیر چلی گئی تھی مقدس چھاتیاں اور پورا شکم بالوں سے خالی تھا۔ ہاں شانوں اور کلائیوں پر قدرے بال تھے۔(2)(شمائل ترمذی ص۲)
1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الفضائل،باب طیب رائحۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ،الحدیث: ۲۳۲۹،ص۱۲۷۱

2۔۔۔۔۔۔الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی خلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث:۷،ص۲۱ملتقطاً
Flag Counter