Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
578 - 872
وسلم کی گردن مبارک نہایت ہی معتدل،صراحی دار اور سڈول تھی۔ خوبصورتی اور صفائی میں نہایت ہی بے مثل خوب صورت اور چاندی کی طرح صاف و شفاف تھی۔ (1)     (شمائل ترمذی ص۲)
دستِ رحمت
آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس ہتھیلیاں چوڑی، پُرگوشت، کلائیاں لمبی، بازو دراز اور گوشت سے بھرے ہوئے تھے۔(2)(شمائل ترمذی ص۲)

    حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی ریشم اور دیبا کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہتھیلیوں سے زیادہ نرم و نازک نہیں پایا اور نہ کسی خوشبو کو آپ کی خوشبو سے بہتر اور بڑھ کر خوشبودار پایا۔(3)

(بخاری ج۱ ص۵۰۲ باب صفۃ النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ج۲ ص۲۵۷)

    جس شخص سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مصافحہ فرماتے وہ دن بھر اپنے ہاتھوں کو خوشبو دار پاتا۔ جس بچے کے سر پر آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنا دست اقدس پھرا دیتے تھے وہ خوشبو میں تمام بچوں سے ممتاز ہوتا۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ظہر ادا کی پھر آپ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ ہی نکلا۔ آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھ کر چھوٹے چھوٹے بچے آپ کی طرف دوڑ پڑے تو آپ ان میں سے ہر ایک کے رخسار پر اپنا دستِ رحمت پھیرنے لگے میں سامنے آیا تو میرے رخسار پر بھی آپ نے اپنا
1۔۔۔۔۔۔الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی خلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث:۷،ص۲۱ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی خلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث:۷،ص۲۱ملتقطاً

3۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المناقب،باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم،الحدیث:۳۵۶۱،ج۲،ص۴۸۹
Flag Counter