| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
امام بیہقی نے یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم عاشوراء کے دن دودھ پیتے بچوں کو بلاتے تھے اور ان کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈال دیتے تھے۔ اور ان کی ماؤں کو حکم دیتے تھے کہ وہ رات تک اپنے بچوں کو دودھ نہ پلائیں ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہی لعاب دہن ان بچوں کو اس قدر شکم سیر اور سیراب کردیتا تھا کہ ان بچوں کو دن بھر نہ بھوک لگتی تھی نہ پیاس۔(1)(زرقانی ج۵ ص۲۴۶) جس کے پانی سے شاداب جان و جناں اس دہن کی طراوت پہ لاکھوں سلام جس سے کھاری کنوئیں شیرۂ جاں بنے اس زلال حلاوت پہ لاکھوں سلام
آواز مبارک
یہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے خصائص میں سے ہے کہ وہ خوب صورت اور خوش آواز ہوتے ہیں لیکن حضورِ سید المرسلین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام سے زیادہ خوبرو اور سب سے بڑھ کر خوش گلو، خوش آواز اور خوش کلام تھے،خوش آوازی کے ساتھ ساتھ آپ اس قدر بلند آواز بھی تھے کہ خطبوں میں دور اور نزدیک والے سب یکساں اپنی اپنی جگہ پر آپ کا مقدس کلام سن لیا کرتے تھے۔(2)
(زرقانی ج۴ ص۱۷۸)
جس میں نہریں ہیں شیروشکر کی رواں
اس گلے کی نضارت پہ لاکھوں سلامپرنور گردن
حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،الفصل الاول فی کمال خلقتہ...الخ،ج۵،ص۲۸۹ 2۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواہب،الفصل الاول فی کمال خلقتہ...الخ،ج۵،ص۴۴۴۔۴۴۵