Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
576 - 872
وہ زباں جس کو سب کن کی کنجی کہیں		اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام

اسکی پیاری فصاحت پہ بےحد درود		اسکی دلکش بلاغت پہ لاکھوں سلام
لعابِ دہن
آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا لعابِ دہن(تھوک)زخمیوں اور بیماریوں کے لئے شفاء اور زہروں کے لئے تریاقِ اعظم تھا۔ چنانچہ آپ معجزات کے بیان میں پڑھیں گے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاؤں میں غار ثور کے اندر سانپ نے کاٹا۔ اس کا زہر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لعابِ دہن سے اتر گیا اور زخم اچھا ہو گیا۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے آشوبِ چشم کے لئے یہ لعاب دہن ''شفاء العین'' بن گیا۔ حضرت رفاعہ بن رافع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی آنکھ میں جنگ بدر کے دن تیر لگا اور پھوٹ گئی مگر آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لعاب دہن سے ایسی شفا حاصل ہوئی کہ درد بھی جاتا رہا اور آنکھ کی روشنی بھی برقرار رہی۔ (زاد المعاد غزوۂ بدر)

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرے پر تیر لگا،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر اپنا لعاب دہن لگا دیا فوراً ہی خون بند ہو گیا اور پھر زندگی بھر ان کو کبھی تیر و تلوار کا زخم نہ لگا۔(1)(اصابہ تذکرۂ ابو قتادہ)

شفاء کے علاوہ اور بھی لعاب دہن سے بڑی بڑی معجزانہ برکات کا ظہور ہوا۔ چنانچہ حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے گھر میں ایک کنواں تھا۔ آپ نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا تو اس کا پانی اتنا شیریں ہو گیا کہ مدینہ منورہ میں اس سے بڑھ کر کوئی شیریں کنواں نہ تھا۔(2)(زرقانی ج۵ ص ۲۴۶)
1۔۔۔۔۔۔الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ، ابوقتادۃبن ربعی الانصاری ، ج۷،ص ۲۷۲    

2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،الفصل الاول فی کمال خلقتہ...الخ،ج۵،ص۲۸۹
Flag Counter