حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے رخسار نرم و نازک اور ہموار تھے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا منہ فراخ، دانت کشادہ اور روشن تھے۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم گفتگو فرماتے تو آپ کے دونوں اگلے دانتوں کے درمیان سے ایک نور نکلتا تھا اور جب کبھی اندھیرے میں آپ مسکرا دیتے تو دندانِ مبارک کی چمک سے روشنی ہو جاتی تھی۔(1)
(شمائل ترمذی ص۲و خصائص کبریٰ ج۱ ص۷۴)
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو کبھی جمائی نہیں آئی اور یہ تمام انبیاء علیہم السلام کا خاصہ ہے کہ ان کو کبھی جمائی نہیں آتی کیونکہ جمائی شیطان کی طرف سے ہوا کرتی ہے اور حضرات انبیاء علیہم السلام شیطان کے تسلط سے محفوظ و معصوم ہیں۔(2)
(زرقانی ج۵ ص۲۴۸)
وہ دہن جس کی ہر بات وحی خدا چشمۂ علم و حکمت پہ لاکھوں سلام
زبان اقدس
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زبانِ اقدس وحی الٰہی کی ترجمان اور سر چشمہ آیات ومخزن معجزات ہے اس کی فصاحت و بلاغت اس قدر حد اعجاز کو پہنچی ہوئی ہے کہ بڑے بڑے فصحاء و بلغاء آپ کے کلام کو سن کر دنگ رہ جاتے تھے ۔؎
ترے آگے یوں ہیں دبے لچے فصحاء عرب کے بڑے بڑے کوئی جانے منہ میں زباں نہیں، نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس زبان کی حکمرانی اور شان کا یہ اعجاز تھا کہ زبان سے جو فرمادیا وہ ایک آن میں معجزہ بن کر عالم وجود میں آ گیا۔
1۔۔الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی خلق رسول اللہ،الحدیث:۷،۱۴،ص۲۱،۲۶ملخصاً والخصائص الکبری للسیوطی،باب الایات فی فمہ...الخ،ج۱،ص۱۰۶ملخصاً 2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،الفصل الرابع مااختص بہ...الخ،ج۷،ص۹۸