اِنِّیْ اَرٰی مَالَا تَرَوْنَ وَاَسْمَعُ مَالَا تَسْمَعُوْنَ
یعنی میں ان چیزوں کو دیکھتا ہوں جن کو تم میں سے کوئی نہیں دیکھتا اور میں ان آوازوں کو سنتا ہوں جن کو تم میں سے کوئی نہیں سنتا۔(2)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سمع و بصر کی قوت بے مثال اور معجزانہ شان رکھتی تھی۔ کیونکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دورو نزدیک کی آوازوں کو یکساں طور پر سن لیا کرتے تھے۔ چنانچہ آپ کے حلیف بنی خزاعہ نے،جیسا کہ فتح مکہ کے بیان میں آپ پڑھ چکے ہیں، تین دن کی مسافت سے آپ کو اپنی امداد و نصرت کے لئے پکارا تو آپ نے ان کی فریاد سن لی۔ علامہ زرقانی نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا کہ
لَا بُعْدَ فِیْ سَمَآعِہٖ صَلَی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَدْ کَانَ یَسْمَعُ اَطِیْطَ السَّمَآءِ
یعنی اگر حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تین دن کی مسافت سے ایک فریادی کی فریاد سن لی تو یہ آپ سے کوئی بعید نہیں ہے کیونکہ آپ تو زمین پر بیٹھے ہوئے آسمانوں کی چرچراہٹ کو سن لیا کرتے تھے بلکہ عرش کے نیچے چاند کے سجدہ میں گرنے کی آواز کو بھی سن لیا کرتے تھے۔ (3)
(خصائص کبریٰ ج۱ ص۵۳ و حاشیہ الدولۃ المکیۃ ص۱۸۰)
1۔۔شرح دیوان حسان بن ثابت الانصاری ،۱۵۷
2۔۔۔الخصائص الکبری للسیوطی،باب الایۃ فی سمعہ الشریف،ج۱،ص۱۱۳
3۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواہب،باب غزوۃ الفتح الاعظم،ج۳، ص۳۸۱
والخصائص الکبری للسیوطی ، باب الایۃ فی سمعہ الشریف ،ج۱ ، ص ۱۱۳