| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
ہے۔ سبحان اﷲ! چشمانِ مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اعجاز کی شان کا کیا کوئی بیان کر سکتا ہے؟ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب قبلہ بریلوی قدس سرہٗ نے کیا خوب فرمایا ؎
شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال دھوم "والنجم" میں ہے آپ کی بینائی کی فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضر بس قسم کھائیے امی تری دانائی کی
بینی مبارک
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی متبرک ناک خوبصورت دراز اور بلند تھی جس پر ایک نور چمکتا تھا۔ جو شخص بغور نہیں دیکھتا تھا وہ یہ سمجھتا تھا کہ آپ کی مبارک ناک بہت اونچی ہے حالانکہ آپ کی ناک بہت زیادہ اونچی نہ تھی بلکہ بلندی اس نور کی وجہ سے محسوس ہوتی تھی جو آپ کی مقدس ناک کے اوپر جلوہ فگن تھا۔(1)
(شمائل ترمذی ص۲ وغیرہ)
نیچی آنکھوں کی شرم و حیا پر درود اونچی بینی کی رفعت پہ لاکھوں سلام
مقدس پیشانی
حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے چہرہ انور کا حلیہ بیان کرتے ہیں کہ
"واسع الجبین"
یعنی آپ کی مبارک پیشانی کشادہ اور چوڑی تھی۔
(2)(شمائل ترمذی ص۲)
قدرتی طورسے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی پیشانی پرایک نورانی چمک تھی۔ چنانچہ دربار رسالت کے شاعر مداح رسول حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اسی حسین و جمیل نورانی منظر کو دیکھ کر یہ کہا ہے کہ ؎
1۔۔۔۔۔۔الشمائل المحمدیۃ ، باب ماجاء فی خلق رسول اللہ ، الحدیث: ۷،ص۲۱ 2۔۔۔۔۔۔ الشمائل المحمدیۃ ، باب ماجاء فی خلق رسول اللہ ، الحدیث: ۷،ص۲۱