یعنی اے لوگو!تم رکوع و سجود کو درست طریقے سے ادا کرو کیونکہ خدا کی قسم! میں تم لوگوں کو اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں۔
صاحب ِمرقاۃ نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا کہ
" وَھِیَ مِنَ الْخَوَارِقِ الَّتِیْ اُعْطِیَھَا عَلَیْہِ السَّلَام" (3)
(حاشیہ مشکوٰۃ ص۸۲ باب الرکوع)
یعنی یہ باب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے ان معجزات میں سے ہے جو آپ کو عطا کئے گئے ہیں۔
پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی آنکھوں کا دیکھنا محسوسات ہی تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ غیر مرئی وغیر محسوس چیزوں کو بھی جوآنکھوں سے دیکھنے کے لائق ہی نہیں ہیں دیکھ لیا کرتے تھے۔ چنانچہ بخاری شریف کی ایک روایت ہے کہ
وَاللّٰہِ مَا یَخْفٰی عَلَیَّ رَکُوْعُکُمْ وَلَا خُشُوْعُکُمْ (4)
یعنی خدا کی قسم! تمہارا رکوع و خشوع میری نگاہوں سے پوشیدہ نہیں رہتا۔ سبحان اﷲ!پیارے مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نورانی آنکھوں کے اعجاز کا کیا کہنا؟کہ پیٹھ کے پیچھے سے نمازیوں کے رکوع بلکہ ان کے خشوع کو بھی دیکھ رہے ہیں۔
"خشوع" کیا چیزہے ؟خشوع دل میں خوف اور عاجزی کی ایک کیفیت کا نام ہے جو آنکھ سے دیکھنے کی چیز ہی نہیں ہے مگر نگاہ نبوت کا یہ معجزہ دیکھو کہ ایسی چیز کو بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا جو آنکھ سے دیکھنے کے قابل ہی نہیں
1۔۔۔۔الخصائص الکبری للسیوطی ، باب المعجزۃ و الخصائص۔۔۔ الخ ، ج۱ ،ص۱۰۴
والمواھب اللدنیۃ ، وشرح الزرقانی،الفصل الاول فی کمال خلقتہ ۔۔۔ الخ ، ج۵،ص۲۶۳،۲۶۴
2۔۔۔مشکاۃ المصابیح ، کتاب الصلاۃ ،باب الرکوع ، الحدیث ۸۶۸ ، ج ۱ ،ص ۱۸۰
3۔۔۔مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،تحت الحدیث:۸۶۸،ج۲،ص۵۹۱
4۔۔۔۔صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب الخشوع فی الصلاۃ ، الحدیث:۷۴۱، ج ۱،ص۲۶۲