Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
569 - 872
اتروائے تو وہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں بطور تبرک تقسیم ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نہایت ہی عقیدت کے ساتھ اس موئے مبارک کو اپنے پاس محفوظ رکھا اور اس کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔

حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے ان مقدس بالوں کو ایک شیشی میں رکھ لیا تھا جب کسی انسان کو نظر لگ جاتی یا کوئی مرض ہوتا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہااس شیشی کو پانی میں ڈبو کر دیتی تھیں اور اس پانی سے شفاء حاصل ہوتی تھی۔(1)
 (بخاری ج۲ ص۸۷۵ باب مایذکر فی الشیب)
وہ کرم کی گھٹا گیسوئے مشک سا

لکۂ ابر رأفت پہ لاکھوں سلام
رُخِ انور
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا چہرۂ منور جمالِ الٰہی کا آئینہ اور انوارِ تجلی کا مظہر تھا۔ نہایت ہی وجیہ،پر گوشت اور کسی قدر گولائی لئے ہوئے تھا۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ چاندنی رات میں دیکھا میں ایک مرتبہ چاند کی طرف دیکھتا اورایک مرتبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے  چہرئہ انور کو دیکھتا تو مجھے آپ کا چہرہ چاند سے بھی زیادہ خوبصورت نظر آتا تھا۔(2)

حضرت براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا چہرہ (چمک دمک میں) تلوار کی مانند تھا؟ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمکا چہرہ چاند کے مثل تھا۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حلیہ مبارکہ کو بیان کرتے ہوئے یہ کہا کہ
1…صحیح البخاری،کتاب اللباس،باب مایذکر  فی الشیب ،الحدیث:۵۸۹۶،ج۴،ص۷۹

2…الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی خلق رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،الحدیث:۹،ص۲۴
Flag Counter