Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
568 - 872
سر اقدس
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حلیہ مبارکہ بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ "ضخم الراس" یعنی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا سر مبارک "بڑا" تھا(جو شاندار اور وجیہ ہونے کا نشان ہے۔) (1)
رُخِ انور
جس کے آگے سرسروراں خم رہیں

اُس سرتاج رفعت پہ لاکھوں سلام
مقدس بال
حضورِ انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے موئے مبارک نہ گھونگھردار تھے نہ بالکل سیدھے بلکہ ان دونوں کیفیتوں کے درمیان تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس بال پہلے کانوں کی لو تک تھے پھر شانوں تک خوبصورت گیسو لٹکتے رہتے تھے مگر حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے اپنے بالوں کو اتروا دیا۔ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان قبلہ بریلوی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے آپ کے مقدس بالوں کی ان تینوں صورتوں کو اپنے دو شعروں میں بہت ہی نفیس و لطیف انداز میں بیان فرمایا ہے کہ
گوش تک سنتے تھے فریاد اب آئے تادوش  	کہ بنیں خانہ بدوشوں کو سہارے گیسو

آخرِ حج غمِ اُمت میں پریشاں ہو کر        		تیرہ بختوں کی شفاعت کو سدھارے گیسو
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اکثر بالوں میں تیل بھی ڈالتے تھے اور کبھی کبھی کنگھی بھی کرتے تھے اور اخیر زمانہ میں بیچ سر میں مانگ بھی نکالتے تھے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس بال آخر عمر تک سیاہ رہے، سر اور داڑھی شریف میں بیس بالوں سے زیادہ سفید نہیں ہوئے تھے۔(2)
 (شمائل ترمذی ص۴-۵)
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں جب اپنے مقدس بال
1…الشمائل المحمدیۃ،باب  ماجاء فی خلق رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،الحدیث:۵،ص۱۹

2…الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی شعر رسول اللّٰہ،الحدیث:۲۶،ص۳۵وباب ماجاء فی ترجل رسول اللّٰہ،الحدیث:۳۲،۳۵،ص۳۹،۴۱وباب ماجاء فی شیب رسول 

اللّٰہ ، الحدیث:۳۹،ص۴۴ملتقطاً
Flag Counter