Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
564 - 872
صاف آئینہ تھا چہرہ آپ کا			صورت  اپنی اس میں ہر اک دیکھتا

تابہ سینہ ریش محبوبِ الٰہ 			خوب تھی گنجان مو ، رنگ سیاہ 

تھا سپید اکثر لباسِ پاک تن 			ہو  ازار  و جبہ  یا  پیر ہن 

سبز رہتا تھا عمامہ آپ کا				پر کبھی سود و سپید و صاف تھا

میں کہوں پہچان عمدہ آپ کی			دونوں عالم میں نہیں ایسا کوئی
جسم اطہر
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جسم اقدس کا رنگ گورا سپید تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ کا مقدس بدن چاندی سے ڈھال کر بنایا گیا ہے۔(1)
 (شمائل ترمذی ص۲)
حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا جسم مبارک نہایت نرم و نازک تھا۔ میں نے دیباوحریر(ریشمیں کپڑوں) کو بھی آپ کے بدن سے زیادہ نرم و نازک نہیں دیکھا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم کے  جسم مبارک کی خوشبو سے زیادہ اچھی کبھی کوئی خوشبو نہیں سونگھی۔ (2)
 (بخاری ج۱ ص۵۰۳ باب صفۃ النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)
حضرت کعب بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خوش ہوتے تھے تو آپ کا چہرہ انور اس طرح چمک اٹھتا تھا کہ گویا چاند کا ایک ٹکڑا ہے اور ہم لوگ اسی کیفیت سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شادمانی و مسرت کو پہچان لیتے تھے۔ (3(
(بخاری ج۱ ص۵۰۲ باب صفۃ النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)
آپ کے رُخِ انور پر پسینہ کے قطرات موتیوں کی طرح ڈھلکتے تھے اور اس میں مشک و عنبر سے بڑھ کر خوشبو رہتی تھی۔ چنانچہ حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی والدہ حضرت بی بی اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ایک چمڑے کا بستر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے
1…الشمائل المحمدیۃ،باب ماجاء فی خلق رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،الحدیث:۱۱،ص۲۴،۲۵

2…صحیح البخاری،کتاب المناقب،باب صفۃالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم،الحدیث:۳۵۶۱،ج۲،ص۴۸۹

3…صحیح البخاری،کتاب المناقب،باب صفۃالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم،الحدیث:۳۵۵۶،ج۲،ص۴۸۸
Flag Counter