| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
بہر حال اس پر تمام امت کا ایمان ہے کہ تناسب ِاعضاء اور حسن و جمال میں حضور نبی آخر الزمان صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بے مثل و بے مثال ہیں۔ چنانچہ حضرات محدثین و مصنفین سیرت نے روایات صحیحہ کے ساتھ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہر ہر عضو شریفہ کے تناسب اور حسن و جمال کو بیان کیا ہے ۔ہم بھی اپنی اس مختصر کتاب میں ’’حلیۂ مبارکہ‘‘ کے ذکر جمیل سے حسن و جمال پیدا کرنے کے لئے اس عنوان پر حضرت مولانا محمد کامل صاحب چراغ ربانی نعمانی ولید پوری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کے منظوم حلیہ مبارکہ کے چند اشعار نقل کرتے ہیں تاکہ اس عالم کامل کی برکتوں سے بھی یہ کتاب سرفراز ہو جائے۔ حضرت مولانا موصوف نے اپنی کتاب ’’پنجہ نور‘‘ میں تحریر فرمایا کہ
حلیۂ مقدسہ
روحِ حق کا میں سراپا کیا لکھوں حلیہ نورِ خدا میں کیا لکھوں پر جمالِ رحمۃٌ للعالمیں جلوہ گر ہو گا مکانِ قبر میں اس لئے ہے آگیا مجھ کو خیال مختصر لکھ دوں جمالِ بے مثال تا کہ یاروں کو مرے پہچان ہو اور اس کی یاد بھی آسان ہو تھا میانہ قد و اوسط پاک تن پر سپید و سرخ تھا رنگ بدن چاند کے ٹکڑے تھے اعضاء آپ کے تھے حسین و گول سانچے میں ڈھلے تھیں جبیں روشن کشادہ آپ کی چاند میں ہے داغ وہ بے داغ تھی دونوں ابرو تھیں مثالِ دو ہلال اور دونوں کو ہوا تھا اِتصال اِتصال دو مہ "عیدین" تھا یاکہ ادنیٰ قرب تھا ’’قوسین‘‘ کا تھیں بڑی آنکھیں حسین و سرمگیں دیکھ کر قربان تھیں سب حور عیں کان دونوں خوب صورت ارجمند ساتھ خوبی کے دہن بینی بلند