Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
565 - 872
بچھا دیتی تھیں اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس پر دوپہر کو قیلولہ فرمایا کرتے تھے تو آپ کے جسم اطہر کے پسینے کو وہ ایک شیشی میں جمع فرما لیتی تھیں پھر اس کو اپنی خوشبو میں ملا لیا کرتی تھیں۔ چنانچہ حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے وصیت کی تھی کہ میری وفات کے بعد میرے بدن اور کفن میں وہی خوشبو لگائی جائے جس میں حضورِ انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جسم اطہر کا پسینہ ملا ہوا ہے۔(1)
 (بخاری ج۲ ص۹۲۹ باب من زار قوماً فقال عندہم و بخاری ج۱ ص۳۶۵ حدیث الافک)
جسم انور کا سایہ نہ تھا
        آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قد مبارک کا سایہ نہ تھا۔ حکیم ترمذی (متوفی    ۲۵۵؁ھ) نے اپنی کتاب "نوادر الاصول" میں حضرت ذکوان تابعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ سورج کی دھوپ اور چاند کی چاندنی میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا سایہ نہیں پڑتا تھا ۔امام ابن سبع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا قول ہے کہ یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خصائص میں سے ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا اور آپ نور تھے اس لئے جب آپ دھوپ یا چاندنی میں چلتے تو آپ کا سایہ نظر نہ آتا تھا اور بعض کا قول ہے کہ اس کی شاہد وہ حدیث ہے جس میں آپ کی اس دعا کا ذکر ہے کہ آپ نے یہ دعا مانگی کہ خداوندا! تو میرے تمام اعضاء کو نور بنا دے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی اس دعا کو اس قول پر ختم فرمایا کہ
"وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا"
یعنی یااﷲ! تو مجھ کو سراپا نور بنا دے۔ ظاہر ہے کہ جب آپ سراپا نور تھے تو پھر آپ کا سایہ کہاں سے پڑتا؟

اسی طرح عبداﷲ بن مبارک اور ابن الجوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہمانے بھی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا سایہ نہیں تھا۔(1)
(زرقانی ج۵ ص۲۴۹)
مکھی، مچھر، جوؤں سے محفوظ
1…صحیح البخاری،کتاب الاستئذان،باب من زارقوما۔۔۔الخ،الحدیث:۶۲۸۱،ج۴،ص۱۸۲
Flag Counter