Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
562 - 872
حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے قصیدہ ہمزیہ میں جمال نبوت کی شان بے مثال کو اس شان کے ساتھ بیان فرمایا کہ         ؎
وَاَحْسَنَ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَیْنِیْ!

وَاَجْمَلَ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءُ
یعنی یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ سے زیادہ حسن و جمال والا میری آنکھ نے کبھی کسی کو دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ کمال والا کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔
خُلِقْتَ مُبَرَّئً مِّنْ کُلِ عَیْبٍ!

کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ(1)
 (یا رسول اﷲ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ ہر عیب و نقصان سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا آپ ایسے ہی پیدا کئے گئے جیسے حسین و جمیل پیدا ہونا چاہتے تھے۔

حضرت علامہ بوصیری رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اپنے قصیدہ بردہ میں فرمایا کہ   ؎
مُنَزَّہٌ عَنْ شَرِیْکٍ  فِیْ  مَحَاسِنِہٖ

فَجَوْھَرُ الْحُسْنِ فِیْہِ غَیْرُ مُنْقَسِمٖ(2)
یعنی حضرت محبوب خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی خوبیوں میں ایسے یکتا ہیں کہ اس معاملہ میں ان کا کوئی شریک ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ان میں جو حسن کا جوہر ہے وہ قابل تقسیم ہی نہیں۔

اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب قبلہ بریلوی قدس سرہ العزیز نے بھی اس مضمون کی عکاسی فرماتے ہوئے کتنے نفیس انداز میں فرمایا ہے کہ   ؎
ترے خُلق کو حق نے عظیم کہا تری خَلق کو حق نے جمیل کیا

کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا ترے خالق حسن و ادا کی قسم
1…شرح دیوان حسان بن ثابت الانصاری،ص۶۶

2…قصیدۃ البردۃ مع شرحہا،ص۱۱۱
Flag Counter