مصنف کی طرف سے عذر:کسی عام مسلمان سے بھی یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کسی صحابی کے بارے میں جان بوجھ کرکوئی نازیبا کلمہ استعمال کرے۔ یقیناً حضرت مصنف علیہ الرحمۃ کے علم میں نہ ہوگا کہ یہ صحابی ہیں کیونکہ یہاں جو معاملہ تھا وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے عصا کے توڑنے کا تھا جس کی وجہ سے شاید مصنف سے تسامح ہوگیا ورنہ وہ ہرگز ایسی بات صحابی ٔرسول کیلئے نہ لکھتے کیونکہ مصنف نے خود اپنی کتب میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کے فضائل بیان فرمائے ہیں جوکہ ان کے راسخ سنی صحیح العقیدہ اور عاشقِ صحابہ کرام علیہم الرضوان ہونے کی دلیل ہے ۔ صحابۂ کرام(علیہم الرضوان)کے بارے میں اسلامی عقیدہ:صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے متعلق اہلسنت کا موقف ہے کہ(۱)صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم کے باہم جو واقعات ہوئے، ان میں پڑنا حرام، حرام، سخت حرام ہے، مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ سب حضرات آقائے دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جاں نثار اور سچے غلام ہیں۔(۲)صحابہ کر ام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم انبیا ء نہ تھے، فرشتہ نہ تھے کہ معصوم ہوں۔ ان میں بعض کے لیے لغزشیں ہوئیں مگر ان کی کسی بات پر گرفت اﷲو رسول عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خلاف ہے۔ (بہار شریعت ۱ ,253مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)تفصیل: مذکورہ واقعہ کی تفتیش کرتے ہوئے ہم نے متعددعربی کتبِ سیر وتاریخ وغیرہ دیکھیں لیکن ان میں "بدنصیب اور خبیث النفس" یا اسکی مثل کلمات نہیں ملے چنانچہ "الاستیعاب" میں ہے: