Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
558 - 872
مخرمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ گزارش کی کہ آپ کے پاس رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی جو تلوار (ذوالفقار) ہے کیا آپ وہ مجھے عنایت فرما سکتے ہیں؟ کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ کہیں یزید کی قوم آپ پر غالب آ جائے اور یہ تبرک آپ کے ہاتھ سے جاتا رہے اور اگر آپ نے اس مقدس تلوار کو مجھے عطا فرما دیا تو خدا کی قسم! جب تک میری ایک سانس باقی رہے گی ان لوگوں کی اس تلوار تک رسائی بھی نہیں ہو سکتی مگر حضرت امام زین العابدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس مقدس تلوار کو اپنے سے جدا کرنا گوارا نہیں فرمایا۔(1)
 (بخاری ج۱ ص۴۳۸ باب ما ذکر من ورع النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)
آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم کی  انگوٹھی ا ور عصائے مبارک پر جانشین ہونے کی بنا پر خلفائے کرام حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق و حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اپنے اپنے دور خلافت میں قابض رہے مگر انگوٹھی حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے کنوئیں میں گر کر ضائع ہو گئی۔ اس کنوئیں کا نام "بیراریس" ہے جس کو لوگ "بیرخاتم" بھی کہتے ہیں۔(2)
 (بخاری ج۲ ص۸۷۲ باب خاتم الفضہ)
اور عصائے مبارک اس طرح ضائع ہوا کہ حضرت امیر المؤمنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اسی مقدس عصائے نبوی کو اپنے دست مبارک میں لے کر مسجد نبوی کے منبر پر خطبہ پڑھ رہے تھے کہ بالکل ناگہاں بدنصیب "جہجاہ غفاری" اٹھا اور اچانک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے اس مبارک تبرک کو لے کر توڑ ڈالا۔ اس بے ادبی سے اس پر یہ قہرِ الٰہی ٹوٹ پڑا کہ اس کے ہاتھ میں کینسر ہو گیا اور پورا ہاتھ سڑ گل کر ٹوٹ پڑا اور اسی عذاب میں وہ ہلاک ہو گیا۔(3)
 (دلائل النبوۃ ج۳ ص۲۱۱)
1…صحیح البخاری،کتاب فرض الخمس،باب ماذکرمن درع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔الخ، 

            الحدیث:۳۱۱۰،ج۲،ص۳۴۴

2…صحیح البخاری،کتاب اللباس،باب خاتم الفضۃ،الحدیث:۵۸۶۶،ج۴،ص۶۸

3…حجۃاللّٰہ علی العالمین، المطلب الثالث فی ذکرجملۃ جمیلۃ من کرامات اصحاب 

          رسول اللّٰہ ،ص۶۱۳

تنبیہ:ہماری تحقیق کے مطابق حضرت سیدنا جہجاہ بن سعید غفاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ
Flag Counter