Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
560 - 872
معرفۃ الأصحاب334 /1) وفی "الإصابۃ" بلفظِ: فوضعہا علی رکبتہ فکسرہا....حتی مات. (الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ - 1 ؍ 622)
ترجمہ:   اور مروی ہے کہ یہ وہی جہجاہ (بن سعید غفاری  رضی اللہ عنہ)ہیں جنھوں  نے بحالتِ خطبہ عثمانِ غنی (رضی اللہ عنہ)کے دستِ مبارک سے عصا (چھڑی ) چھین کر اپنے گھٹنے پر رکھ کر توڑ دیا تھا تو (سیدنا)جہجاہ (رضی اللہ عنہ)کو گھٹنے میں زخم ہوگیا یہاں تک کہ وہ رحلت فرما گئے۔ وہ عصا مبارک رسول ِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا تھا.اِن کی صحابیت کے دلائل: کتب تراجم میں اِن کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ"وہ بیعتِ رضوان میں حاٖضر تھے"
شَہِدَ بیعۃَ الرضوانِ بالحدیبیۃ۔
 (الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ  1؍621)اور متعدد کتب میں عصا توڑنے  والا واقعہ انہی کا لکھا ہے ، جس کی تائید "استیعاب" سے بالخصوص ہوتی ہے کہ انھوں نے پہلے اِن کے ایمان لانے کا واقعہ بیان کیا اور پھر
" ھذا ھو الذی تَنَاوَلَ العَصَا"
کے الفاظ کے ذریعے یہ واضح کر دیا کہ عصا توڑنے والا واقعہ انہی کا ہے۔ (الإستیعاب فی معرفۃ الأصحاب،1 ؍ 334)انکے صحابی ہونے کی صراحت اِن کتب میں بھی کی گئی ہے.(۱) (التمہید لما فی الموطأ من المعانی والأسانید)
فلما أسلمتُ دعانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلی منزلہ فحلب لی عنزا ،7؍ . (230 (۲) (الثقات لابن حبان)
وکان جہجاہ من فقراء المہاجرین وھو الذی أکل عند النبی صلی اللہ علیہ و سلم وہو کافر فأکثر ثم أسلم فأکل فقال لہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم المؤمن یأکل فی معی واحد والکافر یأکل فی سبعۃ أمعاء (1؍280) (۳)(أسد الغابۃ) ثم أسلم فلم یستتم حلاب شاۃ واحدۃ  (1؍451) (۴)(شرح مشکل الآثار للطحاوی)
Flag Counter