| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
(بخاری ج۱ ص۴۳۸ باب ما ذکر من ورع النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الخ)
اسی طرح ایک موٹا کمبل حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس تھا جن کو وہ بطورتبرک اپنے پاس رکھے ہوئے تھیں اور لوگوں کو اس کی زیارت کراتی تھیں۔ چنانچہ حضرت ابوبردہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ہم لوگوں کو حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی خدمت مبارکہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوا تو انہوں نے ایک موٹا کمبل نکالا اور فرمایا کہ یہ وہی کمبل ہے جس میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے وفات پائی۔ (2)
(بخاری ج۱ ص۴۳۸ باب ما ذکر من ورع النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک تلوار جس کا نام "ذوالفقار" تھا حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس تھی ان کے بعد ان کے خاندان میں رہی یہاں تک کہ یہ تلوار کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھی۔ اس کے بعد ان کے فرزند و جانشین حضرت امام زین العابدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس رہی۔ چنانچہ حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت امام زین العابدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ یزیدبن معاویہ کے پاس سے رخصت ہو کر مدینہ تشریف لائے تو مشہور صحابی حضرت مسور بن مخرمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ اگر آپ کو کوئی حاجت ہو یا میرے لائق کوئی کار خدمت ہو تو آپ مجھے حکم دیں میں آپ کے حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہوں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا مجھے کوئی حاجت نہیں پھر حضرت مسور بن
1…صحیح البخاری،کتاب فرض الخمس،باب ماذکرمن درع النبی۔۔۔الخ،الحدیث:۳۱۰۷،
۳۱۰۹،ج۲،ص۳۴۳،۳۴۴ملخصاً
وفتح الباری شرح صحیح البخاری،کتاب فرض الخمس، باب ماذکرمن درع النبی۔۔۔الخ،
تحت الحدیث:۳۱۰۷،۳۱۰۹،ج۶،ص۱۷۳،۱۷۴ملتقطاً
2…صحیح البخاری،کتاب فرض الخمس،باب ماذکرمن درع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔الخ،
الحدیث:۳۱۰۸،ج۲،ص۳۴۳