Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
549 - 872
عنہ نے سورۂ آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنۡ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انۡقَلَبْتُمْ عَلٰۤی اَعْقَابِکُمْ ؕ وَمَنۡ یَّنۡقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللہَ شَیْـًٔا ؕ وَسَیَجْزِی اللہُ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾ (1)
اور محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) تو ایک رسول ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے تو کیا اگر وہ انتقال فرما جائیں یا شہید ہو جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اﷲ کا کچھ نقصان نہ کریگا اور عنقریب اﷲ شکر ادا کرنے والوں کو ثواب دے گا۔(آل عمران)

حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی تو معلوم ہوتا تھا کہ گویا کوئی اس آیت کو جانتا ہی نہ تھا۔ ان سے سن کر ہر شخص اسی آیت کو پڑھنے لگا۔(2)

     (بخاری ج۱ ص۱۶۶ باب الدخول علی ا لمیت الخ و مدارج النبوۃ ج۲ ص۴۳۳)

حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی زبان سے سوره آلِ عمران کی یہ آیت سنی تو مجھے معلوم ہو گیا کہ واقعی نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ پھر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اضطراب کی حالت میں ننگی شمشیر لے کر جو اعلان کرتے پھرتے تھے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال نہیں ہوا اس سے رجوع کیا اور ان کے صاحبزادے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ گویا ہم پر ایک پردہ پڑا ہوا تھا کہ اس آیت کی طرف ہمارا دھیان ہی نہیں گیا۔ حضرت ابوبکر
1۔۔۔۔۔۔پ۴،ال عمرٰن:۱۴۴

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب الدخول علی المیت...الخ،الحدیث:۱۲۴۱، 

۱۲۴۲،ج۱،ص۴۲۱
Flag Counter