Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
550 - 872
صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے خطبہ نے اس پردہ کو اٹھا دیا۔(1)(مدارج النبوۃ ج۲ ص۴۳۴)
تجہیز و تکفین
چونکہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے وصیت فرما دی تھی کہ میری تجہیز و تکفین میرے اہل بیت اور اہل خاندان کریں۔ اس لئے یہ خدمت آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خاندان ہی کے لوگوں نے انجام دی۔ چنانچہ حضرت فضل بن عباس و حضرت قثم بن عباس و حضرت علی و حضرت عباس و حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے مل جل کر آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو غسل دیا اور ناف مبارک اور پلکوں پر جو پانی کے قطرات اور تری جمع تھی حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جوش محبت اور فرط عقیدت سے اس کو زبان سے چاٹ کر پی لیا۔(2)(مدارج النبوۃ ج۲ ص۴۳۸ و ص۴۳۹)

    غسل کے بعد تین سوتی کپڑوں کا جو ''سحول'' گاؤں کے بنے ہوئے تھے کفن بنایا گیا ان میں قمیص و عمامہ نہ تھا۔(3) (بخاری ج۱ ص۱۶۹ باب الثیاب البیض للکفن)
نماز جنازہ
جنازہ تیار ہوا تو لوگ نماز جنازہ کے لئے ٹوٹ پڑے۔ پہلے مردوں نے پھر عورتوں نے پھر بچوں نے نماز جنازہ پڑھی۔ جنازہ مبارکہ حجرہ مقدسہ کے اندر ہی تھا۔ باری باری سے تھوڑے تھوڑے لوگ اندر جاتے تھے اور نماز پڑھ کر چلے آتے تھے لیکن کوئی امام نہ تھا۔ (4)(مدارج النبوۃ ج۲ ص۲۴۰ و ابن ماجہ ص۱۱۸ باب ذکر و فاتہ)
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم چھارم،باب دوم،ج۲،ص۴۳۴

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم چہارم،باب سوم،ج۲،ص۴۳۷،۴۳۸،۴۳۹ملخصاً

3۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب الثیاب البیض للکفن،الحدیث:۱۲۶۴،ج۱،ص۴۲۸

4۔۔۔۔۔۔سنن ابن ماجہ،کتاب الجنائز،باب ذکروفاتہ ودفنہ،الحدیث:۱۶۲۸،ج۲،ص۲۸۴،۲۸۵
Flag Counter