Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
548 - 872
چونکہ دو شنبہ کی صبح کو مرض میں کمی نظر آئی اور کچھ سکون معلوم ہوا اس لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اجازت دے دی تھی کہ تم ''سُنح'' چلے جاؤ اور بیوی بچوں کو دیکھتے آؤ۔(1)

بخاری شریف وغیرہ میں ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ''سُنح'' سے آئے اور کسی سے کوئی بات نہ کہی نہ سنی۔ سیدھے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے حجرے میں چلے گئے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے رخ انور سے چادر ہٹا کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر جھکے اور آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان نہایت گرم جوشی کے ساتھ ایک بوسہ دیا اور کہاکہ آپ اپنی حیات اور وفات دونوں حالتوں میں پاکیزہ رہے۔ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ہر گز خداوند تعالیٰ آپ پر دو موتوں کو جمع نہیں فرمائے گا۔ آپ کی جو موت لکھی ہوئی تھی آپ اس موت کے ساتھ وفات پا چکے۔ اسکے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو اس وقت حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لوگوں کے سامنے تقریر کر رہے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے عمر! بیٹھ جاؤ۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے انہیں چھوڑ دیا اور خود لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے خطبہ دینا شروع کر دیاکہ (2)

اما بعد! جو شخص تم میں سے محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو شخص تم میں سے خدا عزوجل کی پرستش کرتا تھا تو خدا زندہ ہے وہ کبھی نہیں مرے گا۔پھر اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،الفصل الاول فی اتمامہ...الخ،ج۱۲،ص۱۳۳،۱۳۴

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب الدخول علی المیت...الخ،الحدیث:۱۲۴۱، 

۱۲۴۲، ج۱،ص۴۲۱ملخصاً
Flag Counter