Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
547 - 872
ایسا دھچکا لگا کہ وہ اس صدمہ کو برداشت نہ کر سکے اور ان کا ہارٹ فیل ہو گیا۔(1)

حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس قدر ہوش و حواس کھو بیٹھے کہ انہوں نے تلوار کھینچ لی اور ننگی تلوار لے کر مدینہ کی گلیوں میں اِدھر اُدھر آتے جاتے تھے اور یہ کہتے پھرتے تھے کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں اِس تلوار سے اس کی گردن اڑا دوں گا۔ (2)

حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ وفات کے بعد حضرت عمر و حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما اجازت لے کر مکان میں داخل ہوئے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھ کر کہا کہ بہت ہی سخت غشی طاری ہوگئی ہے۔ جب وہ وہاں سے چلنے لگے تو حضرت مغیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے عمر! تمہیں کچھ خبر بھی ہے؟ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آپے سے باہر ہو گئے اور تڑپ کر بولے کہ اے مغیرہ! تم جھوٹے ہو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا اس وقت تک انتقال نہیں ہو سکتا جب تک دنیا سے ایک ایک منافق کا خاتمہ نہ ہو جائے۔(3)

مواہب لدنیہ میں طبری سے منقول ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات کے وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ''سُنح'' میں تھے جو مسجد نبوی سے ایک میل کے فاصلہ پر ہے۔ ان کی بیوی حضرت حبیبہ بنت خارجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا وہیں رہتی تھیں۔
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم،باب دوم،ج۲،ص۴۳۲ملخصاً

والمواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،الفصل الاول فی اتمامہ...الخ،ج۱۲،ص۱۴۲،۱۴۳

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم،باب دوم،ج۲،ص۴۳۲

3۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،الفصل الاول فی اتمامہ...الخ،ج۱۲، ص۱۳۹
Flag Counter