Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
546 - 872
وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔
        (بخاری ج۲ ص۶۴۰ وص۶۴۱باب مرض النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)

تاریخ وفات میں مؤرخین کا بڑا اختلاف ہے لیکن اس پر تمام علماء سیرت کا اتفاق ہے کہ دوشنبہ کا دن اور ربیع الاول کا مہینہ تھا بہر حال عام طور پر یہی مشہور ہے کہ ۱۲ ربیع الاول              ۱۱ھ؁ دوشنبہ کے دن تیسرے پہر آپ نے وصال فرمایا۔(1)(واﷲ تعالیٰ اعلم)
وفات کا اثر
حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات سے حضرات صحابہ کرام اوراہل بیت عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کتنا بڑا صدمہ پہنچا؟ اور اہل مدینہ کا کیا حال ہو گیا؟ اس کی تصویر کشی کے لئے ہزاروں صفحات بھی متحمل نہیں ہو سکتے۔ وہ شمع نبوت کے پروانے جو چند دنوں تک جمال نبوت کادیدار نہ کرتے تو ان کے دل بے قرار اور ان کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ ان عاشقانِ رسول پر جان عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دائمی فراق کا کتنا روح فرسا اورکس قدر جانکاہ صدمہ عظیم ہوا ہو گا؟ جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بلامبالغہ ہوش و حواس کھو بیٹھے، ان کی عقلیں گم ہو گئیں، آوازیں بند ہو گئیں اور وہ اس قدر مخبوط الحواس ہو گئے کہ ان کے لئے یہ سوچنا بھی مشکل ہو گیا کہ کیا کہیں؟ اور کیا کریں؟ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر ایسا سکتہ طاری ہو گیا کہ وہ اِدھر اُدھر بھاگے بھاگے پھرتے تھے مگر کسی سے نہ کچھ کہتے تھے نہ کسی کی کچھ سنتے تھے۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ رنج و ملال میں نڈھال ہو کر اس طرح بیٹھ رہے کہ ان میں اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے کی سکت ہی نہیں رہی۔ حضرت عبداﷲ بن انیس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے قلب پر
1۔۔۔۔۔۔الوفاء باحوال المصطفٰیمترجم،باب وقت وصال،ص۸۱۴ملخصاً
Flag Counter