Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
545 - 872
علیہ وسلم کی زَبانِ مبارک پر یہ کلمات جاری ہوئے تو میں نے سمجھ لیا کہ آپ نے آخرت کو قبول فرما لیا۔(1)(بخاری ج۲ ص۶۴۰ و ص۶۴۱ باب آخر ماتکلم النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)

    وفات سے تھوڑی دیر پہلے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے بھائی عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تازہ مسواک ہاتھ میں لئے حاضر ہوئے۔ آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی طرف نظر جما کر دیکھا۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے سمجھا کہ مسواک کی خواہش ہے۔ انہوں نے فوراً ہی مسواک لے کر اپنے دانتوں سے نرم کی اور دست اقدس میں دے دی آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسواک فرمائی سہ پہر کا وقت تھا کہ سینۂ اقدس میں سانس کی گھرگھراہٹ محسوس ہونے لگی اتنے میں لب مبارک ہلے تو لوگوں نے یہ الفاظ سنے کہ اَلصَّلٰوۃَ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ نماز اور لونڈی غلاموں کا خیال رکھو۔

پاس میں پانی کی ایک لگن تھی اس میں بار بار ہاتھ ڈالتے اور چہرهٔ اقدس پر ملتے اور کلمہ پڑھتے۔ چادر مبارک کو کبھی منہ پر ڈالتے کبھی ہٹا دیتے۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سر اقدس کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہوئی تھیں۔ اتنے میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر انگلی سے اشارہ فرمایا اور تین مرتبہ یہ فرمایا کہبَلِ الرَّفِیْقُ الْاَعْلٰی(اب کوئی نہیں)بلکہ وہ بڑا رفیق چاہیے۔یہی الفاظ زبانِ اقدس پر تھے کہ ناگہاں مقدس ہاتھ لٹک گئے اورآنکھیں چھت کی طرف دیکھتے ہوئے کھلی کی کھلی رہیں اور آپ کی قدسی روح عالَمِ قدس میں پہنچ گئی۔(2)
(اِنَّا ِﷲِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب مرض النبی ووفاتہ،الحدیث:۴۴۳۵،۴۴۳۷، 

ج۳،ص ۱۵۳،۱۵۴ومدارج النبوت،قسم چہارم،باب دوم،ج۲،ص۴۲۹مختصراً

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب مرض النبی ووفاتہ،الحدیث:۴۴۳۸،ج۳،ص۱۵۴ 

ومدارج النبوت،قسم چہارم،باب دوم،ج۲،ص۴۲۹ملخصاً
Flag Counter