Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
544 - 872
دن یعنی دو شنبہ کے روز طبیعت اچھی تھی۔ حجرہ مسجد سے متصل ہی تھا۔ آپ نے پردہ اٹھا کر دیکھا تو لوگ نماز فجر پڑھ رہے تھے۔ یہ دیکھ کر خوشی سے آپ ہنس پڑے لوگوں نے سمجھا کہ آپ مسجد میں آنا چاہتے ہیں مارے خوشی کے تمام لوگ بے قابو ہو گئے مگر آپ نے اشارہ سے روکا اور حجرہ میں داخل ہو کر پردہ ڈال دیا یہ سب سے آخری موقع تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے جمال نبوت کی زیارت کی۔ حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا رُخِ انور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا قرآن کا کوئی ورق ہے۔ یعنی سفید ہو گیا تھا۔(1)(بخاری ج۲ ص۶۴۰ باب مرض النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم وغیرہ)

اس کے بعد بار بار غشی طاری ہونے لگی۔ حضرت فاطمہ زہراء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی زبان سے شدت غم میں یہ لفظ نکل گیا۔ ''وَاکَرْبَ اَبَاہ''ہائے رے میرے باپ کی بے چینی! حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بیٹی ! تمہارا باپ آج کے بعد کبھی بے چین نہ ہو گا۔(2)(بخاری ج۲ ص۶۴۱ باب مرض النبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)

     اس کے بعد بار بار آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یہ فرماتے رہے کہ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْھِمْ یعنی ان لوگوں کے ساتھ جن پر خدا کا انعام ہے اور کبھی یہ فرماتے کہ ''اَللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی... خداوندا! بڑے رفیق میں اور لَا اِلٰہَ اِلَا اللہُ بھی پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ بے شک موت کے لئے سختیاں ہیں۔ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ تندرستی کی حالت میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ پیغمبروں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ خواہ وفات کو قبول کریں یا حیاتِ دنیا کو ۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب مرض النبی ووفاتہ،الحدیث:۴۴۴۸،ج۳،ص۱۵۶

وکتاب الاذان،باب اھل العلم والفضل...الخ،الحدیث:۶۸۰،ج۱،ص۲۴۲ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب مرض النبی ووفاتہ،الحدیث:۴۴۶۲،ج۳،ص۱۶۰
Flag Counter