ایک دن ظہر کی نماز کے وقت مرض میں کچھ افاقہ محسوس ہوا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سات پانی کی مشکیں میرے اوپر ڈالی جائیں۔جب آپ غسل فرما چکے تو حضرت عباس اور حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما آپ کا مقدس بازو تھام کر آپ کو مسجد میں لائے ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نماز پڑھا رہے تھے آہٹ پاکر پیچھے ہٹنے لگے مگر آپ نے اشارہ سے ان کو روکا اور ان کے پہلو میں بیٹھ کر نماز پڑھائی ۔آ پ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھ کر حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور دوسرے مقتدی لوگ ارکان نماز ادا کرتے رہے۔ نماز کے بعد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک خطبہ بھی دیا جس میں بہت سی وصیتیں اور احکام اسلام بیان فرما کر انصار کے فضائل اور ان کے حقوق کے بارے میں کچھ کلمات ارشاد فرمائے اور سورهٔ والعصر اور ایک آیت بھی تلاوت فرمائی۔(1) (مدارج النبوۃ ج۲ ص۴۲۵ و بخاری ج۲ ص۶۳۹)
گھر میں سات دینار رکھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ تم ان دیناروں کو لاؤ تا کہ میں ان دیناروں کو خدا کی راہ میں خرچ کر دوں۔ چنانچہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ذریعے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان دیناروں کو تقسیم کر دیا اور اپنے گھر میں ایک ذرہ بھربھی سونا یا چاندی نہیں چھوڑا۔(2)(مدارج النبوۃ ج۲ ص۴۲۴)
آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مرض میں کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔ خاص وفات کے