Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
542 - 872
میں کو نسا استبعاد ہے؟ اﷲ تعالیٰ نے تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو علم ماکان و مایکون عطا فرمایا۔ یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے سب کا علم عطا فرما کر آپ کو دنیا سے اٹھایا۔چنانچہ اس مضمون کو ہم نے اپنی کتاب ''قرآنی تقریریں'' میں مفصل تحریر کردیا ہے۔
علالت کی ابتداء
مرض کی ابتداء کب ہوئی؟ اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کتنے دنوں تک علیل رہے؟ اس میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔ بہر حال ۲۰ یا ۲۲ صفر    ۱۱ ھ؁ کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جنۃ البقیع میں جو عام مسلمانوں کا قبرستان ہے آدھی رات میں تشریف لے گئے وہاں سے واپس تشریف لائے تو مزاج اقدس ناساز ہو گیا یہ حضرت میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی باری کا دن تھا۔(1)(مدارج النبوۃ ج۲ ص۴۱۷ و زرقانی ج۳ ص۱۱۰)

دوشنبہ کے دن آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی علالت بہت شدید ہو گئی۔ آپ کی خواہش پر تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہ ن نے اجازت دے دی کہ آپ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے یہاں قیام فرمائیں۔ چنانچہ حضرت عباس و حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے سہارا دے کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے حجرهٔ مبارکہ میں پہنچا دیا۔ جب تک طاقت رہی آپ خود مسجد نبوی میں نمازیں پڑھاتے رہے۔ جب کمزوری بہت زیادہ بڑھ گئی تو آپ نے حکم دیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ میرے مصلی پر امامت کریں۔ چنانچہ سترہ نمازیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے پڑھائیں۔
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،الفصل الاول فی اتمامہ...الخ،ج۱۲،ص۸۳ملخصاً

ومدارج النبوت، قسم چہارم،باب اول،ج۲،ص۴۱۷
Flag Counter