Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
541 - 872
اس حدیث میں اِنِّیْ فَرَطٌ لَّکُمْ فرمایا یعنی میں اب تم لوگوں سے پہلے ہی وفات پا کر جا رہا ہوں تا کہ وہاں جا کر تم لوگوں کے لئے حوض کوثر وغیرہ کا انتظام کروں۔

یہ قصہ مرض وفات شروع ہونے سے پہلے کا ہے لیکن اس قصہ کو بیان فرمانے کے وقت آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اسکا یقینی علم حاصل ہو چکا تھا کہ میں کب اور کس وقت دنیا سے جانے والا ہوں اور مرض وفات شروع ہونے کے بعد تو اپنی صاحبزادی حضرت بی بی فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو صاف صاف لفظوں میں بغیر ''شاید'' کا لفظ فرماتے ہوئے اپنی وفات کی خبر دے دی۔ چنانچہ بخاری شریف کی روایت ہے کہ

اپنے مرض وفات میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو بلایا اور چپکے چپکے ان سے کچھ فرمایا تو وہ روپڑیں۔ پھر بلایا اور چپکے چپکے کچھ فرمایا تو وہ ہنس پڑیں جب ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہ ن نے اس کے بارے میں حضرت بی بی فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے آہستہ آہستہ مجھ سے یہ فرمایا کہ میں اسی بیماری میں وفات پا جاؤں گا تو میں رو پڑی۔ پھر چپکے چپکے مجھ سے فرمایا کہ میرے بعد میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے تم وفات پا کر میرے پیچھے آؤگی تو میں ہنس پڑی۔(1)

            (بخاری باب مرض النبی ج۲ ص۶۳۸)

بہر حال حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی وفات سے پہلے اپنی وفات کے وقت کا علم حاصل ہو چکا تھا کیوں نہ ہو کہ جب دوسرے لوگوں کی وفات کے اوقات سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اﷲعزوجل نے آگاہ فرما دیا تھا تو اگر خداوند علام الغیوب کے بتادینے سے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی وفات کے وقت کا قبل از وقت علم ہو گیا تو اس
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب مرض النبی ووفاتہ،الحدیث:۴۴۳۳،۴۴۳۴،ج۳،ص۱۵۳
Flag Counter