عمر بیس برس سے زائد نہیں کس طرح امیر لشکر بنا دیا گیا؟ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس اعتراض کی خبر ملی تو آپ کے قلب نازک پر صدمہ گزرا اور آپ نے علالت کے باوجود سر میں پٹی باندھے ہوئے ایک چادر اوڑھ کر منبر پر ایک خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا کہ اگر تم لوگوں نے اُسامہ کی سپہ سالاری پر طعنہ زنی کی ہے تو تم لوگوں نے اس سے قبل اس کے باپ کے سپہ سالار ہونے پر بھی طعنہ زنی کی تھی حالانکہ خدا کی قسم! اس کاباپ(زید بن حارثہ)سپہ سالار ہونے کے لائق تھااور اس کے بعد اس کا بیٹا (اُسامہ بن زید) بھی سپہ سالار ہونے کے قابل ہے اوریہ میرے نزدیک میرے محبوب ترین صحابہ میں سے ہے جیسا کہ اس کا باپ میرے محبوب ترین اصحاب میں سے تھا لہٰذا اُسامہ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)کے بارے میں تم لوگ میری نیک وصیت کو قبول کرو کہ وہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے۔
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یہ خطبہ دے کرمکان میں تشریف لے گئے اور آپ کی علالت میں کچھ اور بھی اضافہ ہو گیا۔
حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حکم نبوی کی تکمیل کرتے ہوئے مقام جرف میں پہنچ گئے تھے اور وہاں لشکر اسلام کا اجتماع ہوتا رہا یہاں تک کہ ایک عظیم لشکر تیار ہوگیا۔ ۱۰ربیع الاول ۱۱ھ کوجہادمیں جانے والے خواص حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے رخصت ہونے کے لئے آئے اور رخصت ہو کر مقام جرف میں پہنچ گئے۔ اس کے دوسرے دن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی علالت نے اور زیادہ شدت اختیار کر لی۔ حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مزاج پرسی اور رخصت ہونے کے لئے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو دیکھا