Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
538 - 872
مگر ضعف کی وجہ سے کچھ بول نہ سکے، بار بار دست مبارک کو آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور ان کے بدن پر اپنا مقدس ہاتھ پھیرتے تھے۔ حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ اس سے میں نے یہ سمجھا کہ حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میرے لئے دعا فرما رہے ہیں ۔اس کے بعد حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ رخصت ہو کر اپنی فوج میں تشریف لے گئے اور ۱۲ ربیع الاول   ۱۱ ھ؁ کو کوچ کرنے کا اعلان بھی فرما دیا۔ اب سوار ہونے کے لئے تیاری کر رہے تھے کہ ان کی والدہ حضرت اُمِ ایمن رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا فرستادہ آدمی پہنچا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نزع کی حالت میں ہیں۔ یہ ہوش ربا خبر سن کر حضرت اُسامہ و حضرت عمر و حضرت ابو عبیدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم وغیرہ فوراً ہی مدینہ آئے تو یہ دیکھا کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سکرات کے عالم میں ہیں اور اسی دن دوپہر کو یا سہ پہر کے وقت آپ کا وصال ہو گیا۔
اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
یہ خبر سن کر حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا لشکر مدینہ واپس چلا آیا مگر جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مسند خلافت پر رونق افروز ہو گئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بعض لوگوں کی مخالفت کے باوجود ربیع الآخر کی آخری تاریخوں میں اس لشکرکوروانہ فرمایااورحضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مقام ''اُبنٰی'' میں تشریف لے گئے اور وہاں بہت ہی خونریز جنگ کے بعد لشکر اسلام فتح یاب ہوا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے باپ کے قاتل اور دوسرے کفار کو قتل کیااور بے شمار مال غنیمت لے کر چالیس دن کے بعد مدینہ واپس تشریف لائے۔ (1)         (مدارج النبوۃ ج۲ ص۴۰۹ تا ص۴۱۱ و زرقانی ج۳ ص۱۰۷ تا ۱۱۲)
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،اخرالبعوث النبویۃ،ج۴،ص۱۴۷۔۱۵۲،۱۵۵ملخصاً

ومدارج النبوت،قسم سوم،باب یازدہم،ج۲،ص۴۰۹،۴۱۰ملخصاً
Flag Counter