Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
536 - 872
سولہواں باب

                     ہجرت کا گیارہواں سال 

                           ۱۱ ھ؁

جیش اُسامہ
اس لشکر کا دوسرا نام ''سریہ اُسامہ'' بھی ہے ۔یہ سب سے آخری فوج ہے جس کے روانہ کرنے کا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا۔ ۲۶ صفر    ۱۱ھ؁ دوشنبہ کے دن حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے رومیوں سے جنگ کی تیاری کا حکم دیا اور دوسرے دن حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو بلا کر فرمایا کہ میں نے تم کو اس فوج کا امیر لشکر مقرر کیا تم اپنے باپ کی شہادت گاہ مقام ''اُبنٰی'' میں جاؤ اور نہایت تیزی کے ساتھ سفر کرکے ان کفار پر اچانک حملہ کر دو تا کہ وہ لوگ جنگ کی تیاری نہ کر سکیں۔ باوجود یکہ مزاج اقدس ناساز تھا مگر اسی حالت میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے جھنڈا باندھا اور یہ نشانِ اسلام حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دے کر ارشاد فرمایا : ''اُغْزُ بِسْمِ اﷲِ وَفِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَقَاتِلْ مَنْ کَفَرَ بِاللہِ''

اﷲ کے نام سے اور اﷲ کی راہ میں جہاد کرو اور کافروں کیساتھ جنگ کرو۔

حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت بریدہ بن الحضیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو علمبردار بنایا اور مدینہ سے نکل کرایک کوس دور مقام ''جرف'' میں پڑاؤ کیا تا کہ وہاں پورا لشکر جمع ہو جائے۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے تمام معززین کو بھی اس لشکر میں شامل ہو جانے کا حکم دے دیا۔ بعض لوگوں پر یہ شاق گزرا کہ ایسا لشکر جس میں انصار و مہاجرین کے اکابر و عمائد موجود ہیں ایک نو عمر لڑکا جس کی
Flag Counter