| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
قربانی کے بعد حضرت معمر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سر کے بال اتروائے اور کچھ حصہ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو عطا فرمایا اور باقی موئے مبارک کو مسلمانوں میں تقسیم کر دینے کا حکم صادر فرمایا۔(1)
(مسلم ج۱ ص۴۲۱ باب بیان ان السنۃ یوم النحر الخ)
اس کے بعد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے اور طوافِ زیارت فرمایا ۔ساقی کوثر چاہ زمزم پر
پھر چاہ زمزم کے پاس تشریف لائے خاندان عبدالمطلب کے لوگ حاجیوں کو زمزم پلا رہے تھے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ مجھ کو ایسا کرتے دیکھ کر دوسرے لوگ بھی تمہارے ہاتھ سے ڈول چھین کر خود اپنے ہاتھ سے پانی بھر کر پینے لگیں گے تو میں خود اپنے ہاتھ سے پانی بھر کر پیتا۔ حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے زمزم شریف پیش کیا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبلہ رخ کھڑے کھڑے زمزم شریف نوش فرمایا۔ پھر منیٰ واپس تشریف لے گئے اور بارہ ذوالحجہ تک منیٰ میں مقیم رہے اور ہر روز سورج ڈھلنے کے بعد جمروں کو کنکری مارتے رہے۔ تیرہ ذوالحجہ منگل کے دن آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سورج ڈھلنے کے بعد منیٰ سے روانہ ہو کر ''محصب'' میں رات بھر قیام فرمایا ا ور صبح کو نماز فجر کعبہ کی مسجد میں ادا فرمائی اور طواف وداع کرکے انصار و مہاجرین کے ساتھ مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہو گئے۔(2)
1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الحج،باب بیان ان السنۃ...الخ،الحدیث:۱۳۰۵،ص۶۷۸ والمواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،النوع السادس فی ذکرحجہ وعمرہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،ج۱۱،ص۴۳۷،۴۳۸ملخصاً 2۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواہب،النوع السادس فی ذکرحجہ وعمرہ،ج۱۱،ص۴۶۰۔۴۶۶ملتقطاً