| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
خطبہ کے بعد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ظہر و عصر ایک اذان اور دو اقامتوں سے ادا فرمائی پھر ''موقف'' میں تشریف لے گئے اور جبل رحمت کے نیچے غروبِ آفتاب تک دعاؤں میں مصروف رہے۔ غروب آفتاب کے بعد عرفات سے ایک لاکھ سے زائد حجاج کے ازدحام میں ''مزدلفہ'' پہنچے۔ یہاں پہلے مغرب پھر عشاء ایک اذان اور دو اقامتوں سے ادا فرمائی۔ مشعرِ حرام کے پاس رات بھر امت کے لئے دعائیں مانگتے رہے اور سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کے لئے روانہ ہو گئے اور وادی محسر کے راستہ سے منیٰ میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ''جمرہ'' کے پاس تشریف لائے اور کنکریاں ماریں پھر آپ نے بآواز بلند فرمایا کہ
لِتَاخُذُوْا مَنَاسِکَکُمْ فَاِنِّیْ لَا اَدْرِیْ لَعَلِّیْ لَا اَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِیْ ھٰذِہٖ(1)
حج کے مسائل سیکھ لو! میں نہیں جانتا کہ شاید اس کے بعد میں دوسرا حج نہ کروں گا۔
(مسلم ج۱ ص۴۱۹ باب رمی جمرۃ العقبہ)
منیٰ میں بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک طویل خطبہ دیا جس میں عرفات کے خطبہ کی طرح بہت سے مسائل و احکام کا اعلان فرمایا ۔پھر قربان گاہ میں تشریف لے گئے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کے ایک سو اونٹ تھے کچھ کو توآپ نے اپنے دست مبارک سے ذبح فرمایا اور باقی حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو سونپ دیا اور گوشت، پوست، جھول، نکیل سب کو خیرات کر دینے کا حکم دیااور فرمایا کہ قصاب کی مزدوری بھی اس میں سے نہ ادا کی جائے بلکہ الگ سے دی جائے۔(2)1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الحج، باب استحباب رمی الجمرۃ العقبۃ...الخ،الحدیث: ۱۲۹۷، ص۶۷۵ ومدارج النبوت، قسم سوم، باب دہم،ج۲،ص۳۹۳،۳۹۵۔۳۹۶ ملتقطاً 2۔۔۔۔۔۔السیرۃ الحلبیۃ، حجۃالوداع،ج۳، ص۳۷۶۔۳۷۷ ملتقطاً