Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
534 - 872
غدیر خم کاخطبہ
راستہ میں مقام ''غدیرخم'' پر جو ایک تالاب ہے یہاں تمام ہمراہیوں کو جمع فرما کر ایک مختصر خطبہ ارشاد فرمایا جس کا ترجمہ یہ ہے:

حمد و ثنا کے بعد: اے لوگو! میں بھی ایک آدمی ہوں ممکن ہے کہ خداعزوجل کا فرشتہ(ملک الموت)جلد آ جائے اور مجھے اس کا پیغام قبول کرنا پڑے میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑتا ہوں۔ ایک خدا عزوجل کی کتاب جس میں ہدایت اورروشنی ہے اور دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں۔ میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمہیں خدا عزوجل کی یاد دلاتا ہوں۔(1) (مسلم ج۱ ص۲۷۹ باب من فضائل علی)

اس خطبہ میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ
مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ اَللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ وَّالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ(2)(مشکوٰۃ ص۵۶۵مناقب علی)
جس کامیں مولا ہوں علی بھی اسکے مولیٰ،خداوندا!عزوجل جو علی سے محبت رکھے اس سے تو بھی محبت رکھ اور جو علی سے عداوت رکھے اس سے تو بھی عداوت رکھ۔

غدیر خم کے خطبہ میں حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی اس کی کوئی تصریح کہیں حدیثوں میں نہیں ملتی۔ ہاں البتہ بخاری کی ایک روایت سے پتا چلتا ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے اختیار سے کوئی ایسا کام کر ڈالا تھا جس کو ان کے یمن سے آنے والے ہمراہیوں نے پسند نہیں کیا
1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الفضائل، باب من فضائل علی ابن ابی طالب،الحدیث:۲۴۰۸، 

ص۱۳۱۲ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب المناقب،باب مناقب علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ،الفصل 

الثالث، الحدیث:۶۱۰۳،ج۲،ص۴۳۰
Flag Counter