Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
531 - 872
طرف انگلی اٹھائی اور تین بار فرمایا کہ اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ اے اﷲ! تو گواہ رہنا۔(1)

             (ابوداؤد ج۱ ص۲۶۳ باب صفۃ حج النبی)

عین اسی حالت میں جب کہ خطبہ میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنا فرض رسالت ادا فرما رہے تھے یہ آیت نازل ہوئی کہ
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیۡکُمْ نِعْمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسْلَامَ دِیۡنًا ؕ  (2)
آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کر لیا۔
شہنشاہِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا تخت شاہی
یہ حیرت انگیز و عبرت خیز واقعہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جس وقت شہنشاہ کونین خدا عزوجل کے نائب اکرم اور خلیفہ اعظم ہونے کی حیثیت سے فرمان ربانی کا اعلان فرما رہے تھے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا تختِ شہنشاہی یعنی اونٹنی کا کجاوہ اور عرق گیر شاید دس روپے سے زیادہ قیمت کا نہ تھا نہ اس اونٹنی پر کوئی شاندار کجاوہ تھا نہ کوئی ہودج نہ کوئی محمل نہ کوئی چتر نہ کوئی تاج ۔

کیا تاریخ عالم میں کسی اور بادشاہ نے بھی ایسی سادگی کا نمونہ پیش کیا ہے؟ اس کا جواب یہی اور فقط یہی ہے کہ ''نہیں۔''

یہ وہ زاہدانہ شہنشاہی ہے جو صرف شہنشاہ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شہنشاہیت کا طره امتیاز ہے!
1۔۔۔۔۔۔سنن ابی داود،کتاب المناسک،باب صفۃحجۃالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،الحدیث: 

۱۹۰۵،ج۲، ص۲۶۹ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔پ۶،المائدۃ:۳ ومدارج النبوت، قسم سوم، باب دہم،ج۲،ص۳۹۴
Flag Counter