یہ حیرت انگیز و عبرت خیز واقعہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جس وقت شہنشاہ کونین خدا عزوجل کے نائب اکرم اور خلیفہ اعظم ہونے کی حیثیت سے فرمان ربانی کا اعلان فرما رہے تھے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا تختِ شہنشاہی یعنی اونٹنی کا کجاوہ اور عرق گیر شاید دس روپے سے زیادہ قیمت کا نہ تھا نہ اس اونٹنی پر کوئی شاندار کجاوہ تھا نہ کوئی ہودج نہ کوئی محمل نہ کوئی چتر نہ کوئی تاج ۔
کیا تاریخ عالم میں کسی اور بادشاہ نے بھی ایسی سادگی کا نمونہ پیش کیا ہے؟ اس کا جواب یہی اور فقط یہی ہے کہ ''نہیں۔''
یہ وہ زاہدانہ شہنشاہی ہے جو صرف شہنشاہ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شہنشاہیت کا طره امتیاز ہے!
1۔۔۔۔۔۔سنن ابی داود،کتاب المناسک،باب صفۃحجۃالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،الحدیث:
۱۹۰۵،ج۲، ص۲۶۹ملتقطاً
2۔۔۔۔۔۔پ۶،المائدۃ:۳ ومدارج النبوت، قسم سوم، باب دہم،ج۲،ص۳۹۴