Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
530 - 872
میں ارشاد فرمایا کہ
     یَااَیُّھَا النَّاسُ اَلَا اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَاِنَّ اَبَاکُمْ وَاحِدٌ اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی(1)(مسند امام احمد)
اے لوگو!بے شک تمہارا رب ایک ہے اوربے شک تمہارا باپ(آدم علیہ السلام) ایک ہے ۔سن لو!کسی عربی کو کسی عجمی پراورکسی عجمی کوکسی عربی پر،کسی سرخ کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے۔

اسی طرح تمام دنیا میں امن و امان قائم فرمانے کے لئے امن و سلامتی کے شہنشاہ تاجداردو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ خدائی فرمان جاری فرمایا کہ
فَاِنَّ دِمَائَکُمْ وَاَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا اِلٰی یَوْمٍ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ(2)
تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر تاقیامت اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارا یہ دن، تمہارا یہ مہینہ، تمہارا یہ شہر محترم ہے۔ (بخاری و مسلم و ابوداؤد)

    اپنا خطبہ ختم فرماتے ہوئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے سامعین سے فرمایا کہ
وَاَنْتُمْ مَسْئُوْلُوْنَ عَنِّیْ فَمَا اَنْتُمْ قَائِلُوْنَ
تم سے خداعزوجل کے یہاں میری نسبت پوچھا جائے گا تو تم لوگ کیا جواب دو گے؟

تمام سامعین نے کہا کہ ہم لوگ خدا سے کہہ دیں گے کہ آپ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا اور رسالت کا حق ادا کر دیا۔ یہ سن کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے آسمان کی
1۔۔۔۔۔۔المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث رجل من اصحاب النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، 

الحدیث: ۲۳۵۴۸،ج۹،ص۱۲۷

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الحج،باب الخطبۃایام منی،الحدیث:۱۷۴۱،ج۱،ص۵۷۷ملتقطاً
Flag Counter