| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
زمانہ جاہلیت میں چونکہ قریش اپنے کو سارے عرب میں افضل و اعلیٰ شمار کرتے تھے اس لئے وہ عرفات کی بجائے ''مزدلفہ'' میں قیام کرتے تھے اور دوسرے تمام عرب ''عرفات'' میں ٹھہرتے تھے لیکن اسلامی مساوات نے قریش کے لئے اس تخصیص کو گوارا نہیں کیا اور اﷲ عزوجل نے یہ حکم دیا کہ
ثُمَّ اَفِیۡضُوۡا مِنْ حَیۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ (1)
(اے قریش) تم بھی وہیں (عرفات) سے پلٹ کر آؤ جہاں سے سب لوگ پلٹ کر آتے ہیں۔
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے عرفات پہنچ کر ایک کمبل کے خیمہ میں قیام فرمایا۔ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی ''قصواء'' پر سوار ہو کر خطبہ پڑھا۔ اس خطبہ میں آپ نے بہت سے ضروری احکامِ اسلام کا اعلان فرمایا اور زمانہ جاہلیت کی تمام برائیوں اور بیہودہ رسموں کو آپ نے مٹاتے ہوئے اعلان فرمایا کہاَلَا کُلُّ شَیْءٍ مِّنْ اَمْرِالْجَاہِلِیَّۃِ تَحْتَ قَدَمَیَّ مَوْضُوْعٌ۔
سن لو!جاہلیت کے تمام دستورمیرے دونوں قدموں کے نیچے پامال ہیں۔(2)
(ابوداؤد ج۱ ص۲۶۳ و مسلم ج۱ ص۳۹۷ باب حجۃ النبی)
اسی طرح زمانہ جاہلیت کے خاندانی تفاخر اور رنگ و نسل کی برتری اور قومیت میں نیچ اونچ وغیرہ تصورات جاہلیت کے بتوں کو پاش پاش کرتے ہوئے اور مساوات اسلام کا عَلَم بلند فرماتے ہوئے تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے اس تاریخی خطبہ1۔۔۔۔۔۔پ۲،البقرۃ:۱۹۹ 2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،النوع السادس فی ذکرحجہ وعمرہ،ج۱۱،ص۳۸۴، ۳۹۳۔۳۹۵، ۳۹۷ملتقطاًوصحیح مسلم،کتاب الحج،باب حجۃالنبی صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث:۱۲۱۸،ص۶۳۴