Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
528 - 872
ہاتھ رکھ کر اس کو بوسہ دیا پھر خانہ کعبہ کا طواف فرمایا۔ شروع کے تین پھیروں میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ''رمل'' کیا اور باقی چار چکروں میں معمولی چال سے چلے ہر چکر میں جب حجر اسود کے سامنے پہنچتے تو اپنی چھڑی سے حجر اسود کی طرف اشارہ کرکے چھڑی کو چوم لیتے تھے۔ حجر اسود کا استلام کبھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے چھڑی کے ذریعہ سے کیا کبھی ہاتھ سے چھو کر ہاتھ کو چوم لیا کبھی لب مبارک کو حجر اسود پر رکھ کر بوسہ دیا اور یہ بھی ثابت ہے کہ کبھی رُکن یمانی کا بھی آپ نے استلام کیا۔ (1)

                 (نسائی ج۲ ص۳۰ و ص۳۱)

جب طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کے پاس تشریف لائے اور وہاں دو رکعت نماز ادا کی نماز سے فارغ ہو کر پھر حجر اسود کا استلام فرمایا اور سامنے کے دروازہ سے صفا کی جانب روانہ ہوئے قریب پہنچے تو اس آیت کی تلاوت فرمائی کہ
اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللہِ (2)
بے شک صفا اور مروہ اﷲ کے دین کے نشانوں میں سے ہیں۔

پھر صفا اور مروہ کی سعی فرمائی اور چونکہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کے جانور تھے اس لئے عمرہ ادا کرنے کے بعد آپ نے احرام نہیں اتارا۔

آٹھویں ذوالحجہ جمعرات کے دن آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم منیٰ تشریف لے گئے اور پانچ نمازیں ظہر، عصر، مغرب، عشاء،فجر، منیٰ میں ادا فرما کر نویں ذوالحجہ جمعہ کے دن آپ عرفات میں تشریف لے گئے۔
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃمع شرح الزرقانی،النوع السادس فی ذکرحجہ وعمرہ صلی اللہ علیہ وسلم، 

ج۱۱، ص۳۷۵،۳۷۷۔۳۷۹ملتقطاًومدارج النبوت،قسم سوم،باب دہم،ج۲،ص۳۸۹ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔پ۲،البقرۃ:۱۵۸
Flag Counter