Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
515 - 872
وفد ضمام بن ثعلبہ
    یہ قبیلہ سعد بن بکر کے نمائندہ بن کر بارگاہ رسالت میں آئے۔ یہ بہت ہی خوبصورت سرخ و سفید رنگ کے گیسو دراز آدمی تھے۔ مسجد نبوی میں پہنچ کر اپنے اونٹ کو بٹھا کر باندھ دیا پھر لوگوں سے پوچھا کہ محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کون ہیں؟ لوگوں نے دور سے اشارہ کرکے بتایا کہ وہ گورے رنگ کے خوبصورت آدمی جو تکیہ لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں وہی حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں۔ حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سامنے آئے اور کہا کہ اے عبدالمطلب کے فرزند! میں آپ سے چند چیزوں کے بارے میں سوال کروں گا اور میں اپنے سوال میں بہت زیادہ مبالغہ اور سختی برتوں گا۔ آپ اس سے مجھ پر خفا نہ ہوں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم جو چاہو پوچھ لو۔ پھر حسب ذیل مکالمہ ہوا۔

ضمام بن ثعلبہ:     میں آپکو اس خدا کی قسم دے کر جو آپکا اور تمام انسانوں کا پروردگار 

        ہے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا اﷲ نے آپ کو ہماری طرف اپنا رسول 

        بنا کر بھیجا ہے؟

نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:    ''ہاں''

ضمام بن ثعلبہ:    میں آپ کو خدا کی قسم دے کر یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا نماز و روزہ 

        اور حج و زکوٰۃ کو اﷲ نے ہم لوگوں پر فرض کیا ہے؟

نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:    ''ہاں''

ضمام بن ثعلبہ:    آپ نے جو کچھ فرمایا میں اس پر ایمان لایا اور میں ضمام بن ثعلبہ 

        ہوں۔ میری قوم نے مجھے اس لئے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں
Flag Counter