| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
تجھ سے کبھی کوئی بات نہ کروں گا۔ لیکن ان کی بہن نے صدق دل سے اسلام قبول کر لیا۔ یہ اپنے باپ کی حرکت سے رنجیدہ اور دل شکستہ ہو کر پھر مدینہ منورہ چلے آئے اور جنگ تبوک میں شریک ہوئے اور پھر اصحاب صفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی جماعت میں شامل ہو کر حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت کرنے لگے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد یہ بصرہ چلے گئے۔ پھر آخر عمر میں شام گئے اور ۸۵ھ میں شہر دمشق کے اندر وفات پائی۔(1) (مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۶۰)
وفد بنی ہلال
اس وفد کے لوگوں نے بھی دربار نبوت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اس وفد میں حضرت زیاد بن عبداﷲرضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے یہ مسلمان ہو کر دندناتے ہوئے حضرت ام المؤمنین بی بی میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے گھر میں داخل ہو گئے کیونکہ وہ ان کی خالہ تھیں۔
یہ اطمینان کے ساتھ اپنی خالہ کے پاس بیٹھے ہوئے گفتگو میں مصروف تھے جب رسول خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مکان میں تشریف لائے اور یہ پتا چلا کہ حضرت زیاد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ام المؤمنین کے بھانجے ہیں تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ازراہ شفقت ان کے سر اور چہرہ پر اپنا نورانی ہاتھ پھیر دیا۔ اس دست مبارک کی نورانیت سے حضرت زیاد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا چہرہ اس قدر پر نور ہو گیا کہ قبیلہ بنی ہلال کے لوگوں کا بیان ہے کہ اس کے بعد ہم لوگ حضرت زیاد بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے چہرہ پر ہمیشہ ایک نور اور برکت کا اثر دیکھتے رہے۔ (2) (مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۶۰)1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم،باب نہم،ج۲،ص۳۶۰ملخصاً 2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم،باب نہم،ج۲،ص۳۶۰