آپ کے دین کو اچھی طرح سمجھ کر اپنی قوم بنی سعد بن بکر تک اسلام
کا پیغام پہنچا دوں۔
حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مسلمان ہو کر اپنے وطن میں پہنچے اور ساری قوم کو جمع کرکے سب سے پہلے اپنی قوم کے تمام بتوں یعنی ''لات و عزیٰ'' اور ''منات وہبل'' کو برا بھلا کہنے لگے اور خوب خوب ان بتوں کی توہین کرنے لگے۔ ان کی قوم نے جو اپنے بتوں کی توہین سنی تو ایک دم سب چونک پڑے اور کہنے لگے کہ اے ثعلبہ کے بیٹے! تو کیا کہہ رہا ہے؟ خاموش ہو جا ورنہ ہم کو یہ ڈر ہے کہ ہمارے یہ دیوتا تجھ کو برص اور کوڑھ اور جنون میں مبتلا کر دیں گے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سن کر طیش میں آ گئے اور تڑپ کر فرمایا کہ اے بے عقل انسانو! یہ پتھر کے بت بھلا ہم کو کیا نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ سنو! اﷲ تعالیٰ جو ہر نفع و نقصان کا مالک ہے اس نے اپنا ایک رسول بھیجا ہے اور ایک کتاب نازل فرمائی ہے تا کہ تم انسانوں کو اس گمراہی اور جہالت سے نجات عطا فرمائے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲعزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔ میں اﷲ کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام کا پیغام تم لوگوں کے پاس لایا ہوں، پھر انہوں نے اعمال اسلام یعنی نماز و روزہ اور حج و زکوٰۃ کو ان لوگوں کے سامنے پیش کیا اور اسلام کی حقانیت پر ایسی پرجوش اور موثر تقریر فرمائی کہ رات بھر میں قبیلے کے تمام مرد و عورت مسلمان ہو گئے اور ان لوگوں نے اپنے بتوں کو توڑ پھوڑ کر پاش پاش کر ڈالا اور اپنے قبیلہ میں ایک مسجد بنا لی اور نماز و روزہ اور حج و زکوٰۃ کے پابند ہو کر صادق الایمان مسلمان بن گئے۔(1)(مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۶۴)