Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
508 - 872
نہایت ہی خوش روئی اور خندہ پیشانی کے ساتھ گفتگو فرماتے اور ان کی حاجتوں اور حالتوں کو پوری توجہ کے ساتھ سنتے اور پھر ان کو ضروری عقائد و احکامِ اسلام کی تعلیم و تلقین بھی فرماتے اور ہر وفد کو ان کے درجات و مراتب کے لحاظ سے کچھ نہ کچھ نقد یا سامان بھی تحائف اور انعامات کے طور پر عطا فرماتے۔(1)
وفد ثقیف
    جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جنگ ِحنین کے بعد طائف سے واپس تشریف لائے اور ''جعرانہ'' سے عمرہ ادا کرنے کے بعد مدینہ تشریف لے جا رہے تھے تو راستے ہی میں قبیلہ ثقیف کے سردار اعظم '' عروہ بن مسعود ثقفی''رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر برضا و رغبت دامن اسلام میں آ گئے۔ یہ بہت ہی شاندار اور با وفا آدمی تھے اور ان کا کچھ تذکرہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم تحریر کر چکے ہیں۔ انہوں نے مسلمان ہونے کے بعد عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ مجھے اجازت عطا فرمائیں کہ میں اب اپنی قوم میں جا کر اسلام کی تبلیغ کروں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور یہ وہیں سے لوٹ کر اپنے قبیلہ میں گئے اور اپنے مکان کی چھت پر چڑھ کر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا اور اپنے قبیلہ والوں کو اسلام کی دعوت دی۔ اس علانیہ دعوت اسلام کو سن کر قبیلہ ثقیف کے لوگ غیظ و غضب میں بھر کر اس قدر طیش میں آ گئے کہ چاروں طرف سے ان پر تیروں کی بارش کرنے لگے یہاں تک کہ ان کو ایک تیر لگا اور یہ شہید ہو گئے۔ قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے ان کو قتل تو کر دیا لیکن پھر یہ سوچا کہ تمام قبائل عرب اسلام قبول کرچکے ہیں۔ اب ہم بھلا اسلام کے خلاف کب تک اور کتنے لوگوں سے لڑتے رہیں گے؟ پھر مسلمانوں کے انتقام اور ایک لمبی جنگ
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم،باب نہم،ج۲،ص۳۵۹ملخصاً
Flag Counter