کے قلوب پر سکہ بٹھا دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہی لوگ جو ایک لمحہ کے لئے اسلام کا نام سننا اور مسلمانوں کی صورت دیکھنا گوارا نہیں کرسکتے تھے آج پروانوں کی طرح شمع نبوت پر نثار ہونے لگے اور جوق در جوق بلکہ فوج در فوج حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں دور و دراز کے سفر طے کرتے ہوئے وفود کی شکل میں آنے لگے اور برضاورغبت اسلام کے حلقہ بگوش بننے لگے چونکہ اس قسم کے وفود اکثر و بیشتر فتح مکہ کے بعد ۹ھ میں مدینہ منورہ آئے اس لئے ۹ ھ کو لوگ ''سنۃ الوفود''(نمائندہ کا سال) کہنے لگے۔
اس قسم کے وفود کی تعداد میں مصنفین سیرت کا بہت زیادہ اختلاف ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے ان وفود کی تعداد ساٹھ سے زیادہ بتائی ہے۔(1)(مدارج ج ۲ ص ۳۵۸)
اور علامہ قسطلانی و حافظ ابن قیم نے اس قسم کے چودہ وفدوں کا تذکرہ کیا ہے ہم بھی اپنی اس مختصر کتاب میں چند وفود کا تذکرہ کرتے ہیں۔