کے انجام کو سوچ کر دن میں تارے نظر آنے لگے۔ اس لئے ان لوگوں نے اپنے ایک معزز رئیس عبدیالیل بن عمرو کو چند ممتاز سرداروں کے ساتھ مدینہ منورہ بھیجا۔ اس وفد نے مدینہ پہنچ کر بارگاہ اقدس میں عرض کیا کہ ہم اس شرط پر اسلام قبول کرتے ہیں کہ تین سال تک ہمارے بت ''لات'' کو توڑا نہ جائے۔ آپ نے اس شرط کو قبول فرمانے سے صاف انکار فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ اسلام کسی حال میں بھی بت پرستی کو ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ لہٰذا بت تو ضرور توڑا جائے گا یہ اور بات ہے کہ تم لوگ اس کو اپنے ہاتھ سے نہ توڑو بلکہ میں حضرت ابوسفیان اور حضرت مغیرہ بن شعبہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہما) کو بھیج دوں گاوہ اس بت کو توڑ ڈالیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ مسلمان ہو گئے اور حضرت عثمان بن العاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو جو اس قوم کے ایک معزز اور ممتاز فرد تھے اس قبیلے کا امیر مقرر فرما دیا۔ اور ان لوگوں کے ساتھ حضرت ابوسفیان اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو طائف بھیجا اور ان دونوں حضرات نے ان کے بت ''لات'' کو توڑ پھوڑ کر ریزہ ریزہ کر ڈالا۔(1)(مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۶۶)