| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
پڑھا اس کے بعد حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور ''سورۂ براء ت''کی چالیس آیتیں پڑھ کر سنائیں اور اعلان کر دیا کہ اب کوئی مشرک خانہ کعبہ میں داخل نہ ہو سکے گا نہ کوئی برہنہ بدن اور ننگا ہو کر طواف کر سکے گا اور چار مہینے کے بعد کفار و مشرکین کے لئے امان ختم کر دی جائے گی۔ حضرت ابوہریرہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے اس اعلان کی اس قدر زور زور سے منادی کی کہ ان لوگوں کا گلا بیٹھ گیا۔ اس اعلان کے بعد کفار و مشرکین فوج کی فوج آ کر مسلمان ہونے لگے۔(1)
(طبری ج۲ ص۱۷۲۱و زرقانی ج۳ ص۹۰ تا ۹۳)۹ھ کے واقعات متفرقہ
(۱)اس سال پورے ملک میں ہر طرف امن و امان کی فضا پیدا ہو گئی اور زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا اور زکوٰۃ کی وصولی کے لئے عاملین اور محصّلوں کا تقرر ہوا۔(2)
(زرقانی ج۳ ص۱۰۰)
(۲)جو غیر مسلم قومیں اسلامی سلطنت کے زیر سایہ رہیں ان کے لئے جزیہ کا حکم نازل ہوا اور قرآن کی یہ آیت اتری کہحَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنۡ یَّدٍ وَّہُمْ صٰغِرُوۡنَ ﴿٪۲۹﴾ (3)(توبہ)
وہ چھوٹے بن کر ''جزیہ'' ادا کریں (۳)سود کی حرمت نازل ہوئی اور اس کے ایک سال بعد ۱۰ھ میں ''حجۃ الوداع'' کے
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، حج الصدیق بالناس، ج۴، ص۱۱۴۔۱۲۳ ملتقطاً 2۔۔۔۔۔۔الکامل فی التاریخ، ذکرحج ابی بکر،ج۲،ص۱۶۱و شرح الزرقانی علی المواھب تحویل القبلۃ...الخ، ج۲،ص۲۵۴ 3۔۔۔۔۔۔پ۱۰،التوبۃ:۲۹