موقع پر اپنے خطبوں میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کا خوب خوب اعلان فرمایا۔
(بخاری و مسلم باب تحریم الخمر)
(۴)حبشہ کا بادشاہ جن کا نام حضرت اصحمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا۔ جن کے زیر سایہ مسلمان مہاجرین نے چند سال حبشہ میں پناہ لی تھی ان کی وفات ہو گئی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مدینہ میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی اور ان کے لئے مغفرت کی دعا مانگی۔(1)
(۵)اسی سال منافقوں کا سردار عبداﷲ بن ابی مر گیا۔ اس کے بیٹے حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی درخواست پر ان کی دلجوئی کے واسطے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس منافق کے کفن کے لئے اپنا پیرہن عطا فرمایا اور اس کی لاش کو اپنے زانوئے اقدس پر رکھ کر اس کے کفن میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے بار بار منع کرنے کے باوجود چونکہ ابھی تک ممانعت نازل نہیں ہوئی تھی اس لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھائی لیکن اس کے بعد ہی یہ آیت نازل ہو گئی کہ