| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
وَاللہُ یَشْہَدُ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾لَاتَقُمْ فِیۡہِ اَبَدًا ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِیۡہِ ؕ فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾ (1)
اور خدا گواہی دیتا ہے کہ بےشک یہ لوگ جھوٹے ہیں آپ کبھی بھی اس مسجد میں نہ کھڑے ہوں وہ مسجد (مسجد قباء) جسکی بنیاد پہلے ہی دن سے پرہیز گاری پر رکھی ہوئی ہے وہ اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں اسمیں ایسے لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں اور خدا پاکی رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔(توبہ ) اس آیت کے نازل ہو جانے کے بعد حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت مالک بن د خشم و حضرت معن بن عدی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو حکم دیا کہ اس مسجد کو منہدم کرکے اس میں آگ لگا دیں۔(2) (زرقانی ج۳ ص۸۰)
صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیر الحج
غزوۂ تبوک سے واپسی کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذوالقعدہ ۹ھ میں تین سو مسلمانوں کا ایک قافلہ مدینہ منورہ سے حج کے لئے مکہ مکرمہ بھیجا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ''امیر الحج'' اور حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ''نقیب اسلام'' اور حضرت سعد بن ابی وقاص و حضرت جابر بن عبداﷲ و حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو معلم بنا دیا اور اپنی طرف سے قربانی کے لئے بیس اونٹ بھی بھیجے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حرمِ کعبہ اور عرفات و منیٰ میں خطبہ1۔۔۔۔۔۔پ۱۱،التوبۃ:۱۰۷۔۱۰۸ 2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، ثم غزوۃ تبوک، ج۴، ص۹۷۔۹۸ ماخوذاً