Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
490 - 872
فرمائے جو تم نے گھر پر رکھا۔ اس دعاء نبوی کا یہ اثر ہوا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بہت زیادہ مالدار ہو گئے۔

    اسی طرح تمام انصار و مہاجرین نے حسب توفیق اس چندہ میں حصہ لیا۔ عورتوں نے اپنے زیورات اتار اتار کر بارگاہ نبوت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

    حضرت عاصم بن عدی انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کئی من کھجور یں دیں۔ اور حضرت ابو عقیل انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو بہت ہی مفلس تھے فقط ایک صاع کھجور لے کر حاضر خدمت ہوئے اور گزارش کی کہ یا رسول اﷲ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) میں نے دن بھرپانی بھر بھر کر مزدوری کی تو دو صاع کھجوریں مجھے مزدوری میں ملی ہیں۔ ایک صاع اہل و عیال کو دے دی ہے اور یہ ایک صاع حاضر خدمت ہے۔ حضور رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا قلب نازک اپنے ایک مفلس جاں نثار کے اس نذرانہ خلوص سے بےحد متاثر ہوا اور آپ صلی  اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کھجور کو تمام مالوں کے اوپر رکھ دیا۔(1)                     (مدارج النبوۃ ج۲ ص۳۴۵ تا ص۳۴۶)
فوج کی تیاری
    رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا اب تک یہ طریقہ تھا کہ غزوات کے معاملہ میں بہت زیادہ رازداری کے ساتھ تیاری فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ عساکر اسلامیہ کو عین وقت تک یہ بھی نہ معلوم ہوتا تھا کہ کہاں اور کس طرف جانا ہے؟ مگر جنگ تبوک کے موقع پر سب کچھ انتظام علانیہ طور پر کیا اور یہ بھی بتا دیا کہ تبوک چلنا ہے اور قیصر روم کی
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت، قسم سوم، باب نہم، ج۲، ص۳۴۴۔۳۴۶

والمواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب ثم غزوۃ تبوک،ج۴، ص۶۹۔۷۱
Flag Counter