| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
فوجوں سے جہاد کرنا ہے تا کہ لوگ زیادہ سے زیادہ تیاری کر لیں۔
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے جیسا کہ لکھا جا چکا دل کھول کر چندہ دیا مگر پھر بھی پوری فوج کے لئے سواریوں کا انتظام نہ ہو سکا۔ چنانچہ بہت سے جانباز مسلمان اسی بنا پر اس جہاد میں شریک نہ ہو سکے کہ ان کے پاس سفر کا سامان نہیں تھا یہ لوگ دربار رسالت میں سواری طلب کرنے کے لئے حاضر ہوئے مگر جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سواری نہیں ہے تو یہ لوگ اپنی بے سروسامانی پر اس طرح بلبلا کر روئے کہ حضوررحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان کی آہ و زاری اور بے قراری پر رحم آ گیا۔ چنانچہ قرآن مجید گواہ ہے کہ(1)وَّلَا عَلَی الَّذِیۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُکُمْ عَلَیۡہِ ۪ تَوَلَّوۡا وَّ اَعْیُنُہُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوۡا مَا یُنۡفِقُوۡنَ ﴿ؕ۹۲﴾ (2)
اور نہ ان لوگوں پر کچھ حرج ہے کہ وہ جب (اے رسول) آپ کے پاس آئے کہ ہم کو سواری دیجئے اور آپ نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں تو وہ واپس گئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے کہ افسوس ہمارے پاس خرچ نہیں ہے۔(سورۃ التوبہ)
تبوک کو روانگی
بہرحال حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تیس ہزار کا لشکر ساتھ لے کر تبوک کے لئے روانہ ہوئے اور مدینہ کا نظم و نسق چلانے کے لئے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنا خلیفہ
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت، قسم سوم، باب نہم،ج۲، ص۳۴۷ والمواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب ثم غزوۃ تبوک،ج۴،ص۷۲۔۷۵ 2۔۔۔۔۔۔پ۱۰، التوبۃ:۹۲